بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے اعلان کیا
ٹرمپ نے جنگ میں اپنی بھاری شکست چھپانے کے لئے اپنے ایکس پیغام میں، ایران میں مارگرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لئے ـ (ہالی ووڈ کے فلموں کی طرح) ـ ایک اسپیشل آپریشن ہو رہا ہے!!
جواباز ٹرمپ! جان لو! طبس کا خدا آج بھی وہی خدا ہے۔
ملک کے مرکز میں اپنے گرے ہوئے جنگی طیارے کے پائلٹ کو نجات دلانے کی ناکام کوششوں کے آغاز پر (سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس، پولیس، عوامی یونٹوں اور بسیج کی) مشترکہ کاروائی میں دشمن کے دو
(C-130) ٹرانسپورٹ طیاروں (جو بظاہر ہیلی کاپٹروں کی ری فیولنگ کی غرض سے ملک میں داخل ہؤا تھا) اور دو ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا اور امریکہ ایک پھر طبس جیسی رسوا کن شکست سے دوچار ہؤا۔
امریکی فوج مزید ایک طاقتور اور مسلط فوج نہیں بلکہ بزدل، دیوالیہ اور شکست خوردہ فوج سمجھی جاتی ہے، گوکہ امریکی صدر نفسیاتی جنگ اور اپنی ہی ہرزہ سرائیوں میں مصروف ہے لیکن میدانی حقائق بہرحال حقیقت آشکار ہیں۔
واضح رہے کہ ایک باخبرذریعے نے آئی آر آئی بی کے نیوز چینل کو بتایا کہ امریکیوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پائلٹ کو ایک ہیلی کاپٹر پر سوار کر لیا اور ٹرانسپورٹ کو خود تباہ کرکے چلے گئے، جو سفید جھوٹ ہے۔ حتی ایک امریکی فوجی ایران کی مٹی پر قدم نہیں رکھ سکا ہے، ٹرانسپورٹ طیارے کے عملے کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور ان کی لاشوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع نے اعتراف کیا کہ دو ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز جنوبی اصفہان میں ایرانی ایئرڈيفنس کی زد میں آکر تباہ ہوگئے ہیں۔
امریکی ذرائع نے خود ہی بتایا کہ کل ہونے والی کاروائی میں ایک امریکی پائلٹ کو نجات دلانے کی پینٹاگون کی رپورٹ جھوٹ پر مبنی تھی۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے 7 جنوری 2026 کو طبس کے واقعے کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا: میں نکولس مادورو کے اغوا کے موقع پر فکرمند تھا کہ ایک بار پھر جمی کارٹر کے دور میں ایران پر حملے کا ناکام تجربہ کہیں دہرایا نہ جائے! اور آج یہ واقعہ ایک بار پھر وینزوئلا میں نہیں بلکہ ایران ہی میں دہرایا گیا۔
ٹرمپ نے طبس کے واقعے کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا: "اس واقعے نے "کارٹر کی پوری حکومت کو نیست و نابود کر دیا۔"
جنوبی اصفہان میں رونما ہونے والے واقعے سے پہلے بھی امریکی پائلٹ کی خاطر دو A10 طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایرانی افواج کے ہاتھوں تباہ ہوگئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طبس کا واقعہ:
سابق امریکی صدر جمی کارٹر 1980 کی دہائی کے آخر میں امریکی صدر تھا جس نے ـ ایرانی طلبا کے ہاتھوں اپنی جاسوسی کے گھونسلے [نام نہاد سفارت خانے] کی تسخیر کے بعد ـ یرغمالیوں کی آزادی کے لئے ایران میں فضائی حملے یا مبینہ طور پر ریسکیو آپریشن کا حکم جاری کیا تھا، ایسی کاروائی جو ایرانیوں کی مداخلت کے بغیر ہی، شکست سے دوچار ہوئی۔
اس کاروائی کو امریکیوں نے "عقاب کا پنجہ" (Eagle Claw) کا نام دیا تھا جس میں چھ امریکی طیارے اور آٹھ ہیلی کاپٹر ایران کی سرحدوں سے دراندازی کرکے آئے، لیکن طبس میں ریت کا ایک عظیم طوفان اٹھا جس میں تین ہیلی کاپٹر اور ایک طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور کم از کم آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اور امریکہ کو پسپا ہونا پڑا۔
امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے امریکہ کی فوجی شکست پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: "یہ اللہ کی طرف کی غیب سے آنے والی امدد تھی، اور یہ بے وقوفانہ مشق خدائے قادر کے حکم سے ناکام ہو گئی۔"

سنہ 1980 میں طبس کے مقام پر امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر ایرانی افواج کی کاروائی کے بغیر، تباہ ہوگئے۔

امریکہ کو 2026 میں بھی اس ذلت کا سامنا کرنا پڑا
جس خدا نے سنہ 1980 میں کفر کی سپاہ کو صحرائے طبس میں منہ کے بل گرا دیا، آج بھی اسی خدا نے اسی دشمن کو ایک بار پھر اصفہان کے جنوب ميں منہ کے بل گرا دیا تاکہ ایک بار ثابت ہوجائے کہ "حسبنا اللہ ونعم الوکیل"۔
امام شہید سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے فرمایا تھا:
"وہ اس سے پہلے بھی طبس پر حملہ کیا تھا اور اپنے آپ کو نجس کرکے چلے گئے تھے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ